
لاہور سے میو نیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں تنظیمی ڈھانچے کو مزید فعال اور مربوط بنانے کے سلسلے میں پاکستان میو اتحاد کے ضلعی دفتر لاہور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی صدر ممتاز شفیق میو نے کی۔ اجلاس میں صوبائی جنرل سیکرٹری آفتاب اختر میو، سینئر نائب صدر طاھر خاں نمبردار، ماسٹر جمال الدین میو فنانس سیکرٹری، حاجی شھاب الدین میو، مشتاق احمد امبرالیا، سردار محمد افضل میو، عمران بلا میو، حاجی ابراھیم میو، عدنان رحیم میو ، ضلعی صدر لاہور محمد نعیم میو، ضلعی سیکرٹری جنرل محمد رفیق میو ، سینئر نائب صدر حاجی محمد ارشد میو میڈیا ایڈوائزر شکراللہ میو، محمد اشفاق چشتی سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کا آغاز آفتاب اختر میو نے تلاوت قرآن پاک سے کیا ، اشفاق احمد چشتی نے نعت شریف پیش کی ، اجلاس میں نو منتخب کابینہ کا نوٹیفکیشن دیا گیا اور کابینہ کے ارکان کو ھار پہنا کر مبارک باد دی گئی ،
اجلاس کے دوران تنظیمی امور، موجودہ کارکردگی اور مستقبل کے اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط اور فعال تنظیم ہی کسی بھی اجتماعی مقصد کے حصول کی ضمانت ہوتی ہے، لہٰذا پاکستان میو اتحاد کو گراس روٹ لیول تک منظم اور مؤثر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر یہ لائحہ عمل طے پایا کہ پنجاب بھر میں تحصیل اور یونین کونسل سطح تک تنظیم سازی کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا، جس کے لیے واضح اہداف، ذمہ داریاں اور ٹائم لائن مقرر کی جائیں گی۔ اس حوالے سے ضلعی اور تحصیلی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینے، متحرک اور باصلاحیت افراد کو ذمہ داریاں سونپنے اور کارکنان کی تربیت کے لیے خصوصی سیشنز منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے باہمی رابطے کو مؤثر بنایا جائے گا اور نوجوانوں کو تنظیم کا فعال حصہ بنایا جائے گا تاکہ برادری کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر اور حل کیا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ میڈیا کے ذریعے تنظیمی سرگرمیوں کو اجاگر کیا جائے گا تاکہ مثبت تشخص کو فروغ ملے اور عوامی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہو۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میو اتحاد کو ایک مضبوط، منظم اور فعال پلیٹ فارم بنایا جائے گا جو نہ صرف برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے گا بلکہ معاشرتی ترقی، تعلیم کے فروغ اور باہمی اتحاد کے لیے بھی عملی اقدامات کرے گا۔




