Umer Mayo

یادِ رفتگاں
کچھ رشتے وقت گزرنے کے باوجود دل سے محو نہیں ہوتے، بلکہ یادوں میں اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔ شہید اجمل خاں میو مرحوم ایسی ہی ایک باوقار اور محبت کرنے والی شخصیت تھے جن کی یاد آج بھی ان کے چاہنے

والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
شہید اجمل خاں میو کے دیرینہ دوست، ساتھی اور بھائی جاوید احمد میو، چیئرمین الجبار میو ایجوکیشن فاؤنڈیشن کراچی جب بھی اجمل بھائی کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ یہ آنسو صرف جدائی کے نہیں بلکہ اس بے لوث محبت، خلوص اور بھائی چارے کی گواہی ہیں جو دونوں کے درمیان موجود تھا۔
گزشتہ سال لاہور میں منعقدہ میو خواتین کے پروگرام میں بھی جب شہید اجمل خاں میو کا تذکرہ ہوا تو جاوید احمد میو کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ ان کے جذبات اس بات کا ثبوت تھے کہ اجمل بھائی صرف ایک دوست نہیں بلکہ ان کے دل کے بہت قریب تھے۔ ان کی یاد آج بھی جاوید صاحب کے دل میں اسی طرح زندہ ہے جیسے وہ کل کی بات ہو۔
وفا، محبت اور اخلاص کے یہ رشتے دنیا کی ہر مادی چیز سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ شہید اجمل خاں میو کی شخصیت، خدمات اور محبتیں ان کے دوستوں اور ساتھیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی، اور جاوید احمد میو کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس لازوال دوستی کی خاموش مگر سچی داستان سناتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ شہید اجمل خاں میو مرحوم کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے تمام چاہنے والوں کو صبر و استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔




