
ملاقاتن کو صحت مندانہ رجحان برقرار رہنو چاہئے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
جب بھی کوئی قوم آگے بڑھے ہے تو۔وا قوم کا افراد تین اقسام میں بٹ جاواہاں۔
(1)مخلص لوگ۔یہ جیسا ہاں جہاں ہاں، جو کچھ کرسکاہاں۔کر گزراہاں۔یہ لوگ نتائج سو بے پروا ہوکے اپنا حصہ کاکام کراہاں۔مطلبی لوگ ان سو کم عقل کہواہاں۔
(2)مطلبی اور موقع پرست لوگ۔یہ کام کچھ نہ کراہاں ،صرف شور مچاواہاں۔جیسے بیاہ شادین میں جاکے پکتی دیگن کے پئے کھڑا ہوجاواہاں ،اور نائی کو مشورہ دیواہاں ۔کہ نون کم راکھیو۔مرچن کو بھی خیال راکھئیو۔فلانا کا بیاہ میں مرچن کی وجہ سو کام خراب ہوگئیو ہو۔یہ نہایا دھویا،بائو بنا پھرا ہاں، کام دھیلا کو نہ کراہاں۔کھانا پینا کی جگہ پے بر وقت پہنچ جاواہاں۔
(3)تیسرا قسم کا لوگ۔حاسد رہواہاں۔ان کو کام صرف انتو رہوے ہے کہ کوئی مخالف نہ آجائے۔جاسو لڑائی یا منہ ماری ہوچکی ہے ۔اگر آئیو تو بیاہ خراب کرن میں دیر نہ لگاواہاں۔بات بات پے روسا مٹکی کراہاں۔یہ لوگ کدی خاندان میں سلوک نہ ہو ن دیواہاں۔اگر کوئی ان کی بات نہ سُنے تو بیاہ خراب کرن کے مارے روس جاواہاں۔
یہی چیز پوری زندگی میں جاری رہوے ہے
انجمن اتحاد ترقی میوات کو عبوری صدر جو پرانا لوگن سو میل میلاپ کررو ہے۔بہترین عمل ہے۔
سابقہ صدور سو ملنو۔اُن سوُ بدوکی زمین کا بارہ میں معلومات اکھٹی کرنو۔ان کا تجربہ سو فائدہ اٹھانو صحت مند عمل ہے۔ان لوگن نے کام کرو ہے میو قوم کی خدمت کری ہے۔ان کو استحقاق ہے کہ ان سو مشاورت کری جائے۔ان صدور کی خدمات قوم کے سامنے پیش کری جاواہاں۔منصوبہ کیوں تاخیر کو شکار ہوئیو۔میو قوم کو بتائیو جاوے؟نئی کہا حکمت عملی بنائی ہے وا بارہ میں میو قوم سو مشاورت کری جائے۔سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں بیٹھا لوگن کی رائے لی جائے۔قوم کو کام ہےقوم ہی یائے مکمل کرے گی۔یا پروجیکٹ کا مثبت و منفی پہلو سامنے لادھرا جاواں۔ممکن ہے کوئی ایسی شکل سامنے آجائے،جو یا منصوبہ اے مکمل کرن میں مدد گار ثابت ہوئے۔
جب سو بدوکی کالج زمین کا بارہ میں لکھنو شروع کرو ہے میو قوم کا لوگن نے رابطہ کرنو شروع کردئیو ہے۔اندرون وبیرون ممالک سو کال۔وائس میسجز۔ٹیکسٹ میسجز،آراہاں۔مجموعی طورپے لوگ بدوکی کی کالج کی تعمیر اور یا پروجیکٹ سو ،نا امید دکھائی دیواہاں۔ان کے نزدیک ایک کام قوم کے ساتھ مذاق ہے۔جو لوگ اتنا عرصہ میں زمین کا قبضہ یا۔تعمیر کو نقشہ بناکر قوم کو نہ دے سکا،وے آن والا وقت میں کونسو تیر مار لینگا۔۔بہت سا لوگ پر امید بھی ہاں۔۔۔کہ کام ہوئے گو ضرور لیکن کد ہوئے گو،پتو نہ ہے۔۔
عبوری صدر کی کچھ ملاقات ہوئی ہاں۔ان کو احوال قوم کے سامنے پیش کررو ہوں۔
انجمن اتحاد و ترقی میوات کے قائم مقام صدر ممتاز شفیق میو نے حاجی نور محمد میو ، ماسٹر جمال الدین میو ، ڈاکٹر لیاقت علی میو کے ھمراہ انجمن اتحاد و ترقی میوات کے سابق صدر علامہ محمد احمد قادری سے ملاقات کی ، ملاقات میں تنظیم کے شروع سے لیکر اب تک کے معاملات پر گفتگو ھوئی ، سابقہ صدر انجمن اتحاد و ترقی میوات احمد قادری صاحب نے موجودہ قیادت کو ھر قسم تعاون کی یقین دھانی کرائی۔
علامہ محمد احمد قادری صاحب۔علم دوست ،مردم شناس۔مہمان نواز۔ شخصیت جو اُن سو ملن جاوے ہے واکی کام و دھن۔تواضع میں اتنو آگے بڑھ جاواہاں کہ ۔کوئی لڑائی کرن بھی جائے جو خدمت دیکھ کے واکا منہ پے تالو لگ جاوے ہے۔
احمد قادری صاحب ان لوگن میں سو ایک ہے جانے میو قوم کی خدمت کو بیڑہ وا وقت اٹھائیو۔جب کوئی میو لکھنو بھی گوارا نہ کرے ہو۔اللہ انن نے سلامت راکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




