پاکستان میں بنتی بگڑتی میو تنظیموں پر طائرانہ نظر

پاکستان میں بنتی بگڑتی میو تنظیموں پر طائرانہ نظر…….
ستر کی دہائی تک حیدرآباد سے میرے خالو سعیدالدیں میو مرحوم ہمارے گھر ہر سال اکثر ایک کلینڈر لے کر آتے تھے جس سے ہمیں پتہ چلتا تھا کہ حیدرآباد میں برادری کی ایک تنظیم بھی ہے، بنام پاکستان میو سوشل ویلفیئر ایسوسی ایشن، جسکا دفتر گاڑی کھاتہ حیدرآباد میں ہے اور اسکے ساتھ ایک لائبریری بھی ہے، اور وہ برادری کے چھوٹے موٹے فلاحی کام کرتی تھی خاص طور پر تعلیم سے متعلق، کبھی کبھار اسکے کوئی پمفلٹ وغیرہ بھی ملتا تھا، خالو کے علاوہ جن لوگوں کے نام سننے کو ملتے تھے ان میں پروفیسر صدرالدین میو صاحب ، مقصود خان میو صاحب، ڈاکٹر عبدالحق کاسگنجوی صاحب، کوٹری سے بابو خان میو صاحب، کریم داد خاں میو صاحب نمایاں تھے،
خالو کے انتقال کے بعد تمام رابطے منقطع ہوگئے یوں کلینڈر بھی آنے بند ہوگئے اور پھر دفتر اور لائبریری وغیرہ بھی بند ہوگئی،.
اس سے پہلے کراچی میں بھی ایک میو تنظیم آل پاکستان میو سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن بھی فعال تھی، جس میں اس دور کی معروف سماجی شخصیات جناب زیڈ اے خان میو، نور شیر میو، صاحب داد خان صاحب، کریم خان میو، منصور میو، ستار میو، اظہار الحسن میو صاحب کے نام مجھے یاد ہیں، اس تنظیم سے میرا رابطہ اس وقت ہوا جب اظہار صاحب نے میو اسپورٹس کے حوالے سے کرکٹ ٹیم بنائی اور پوری کراچی سے میو بچے جمع کرکے باقاعدگی سے میچز کا سلسلہ شروع کیا، میں خود بھی کرکٹ کا شوقین تھا اس لئے اسکا حصہ بنا، ٹیم کے کپتان جاوید میو بھائی تھے، پرانے رسالوں کے زریعہ معلوم ہوا کہ شہاب الدین میو (اسلام آباد والے) اور چوہدری جان محمد میو بھی اس کا حصہ تھے، اور اس وقت ان تمام لوگوں نے میو کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی بنا کر زمین کے لئے درخواست بھی دی تھی اور یہ پراسس آخری مراحل میں تھا تو تنظیم میں الیکشن کا شور ہوا، پڑھے لکھے صاحب ثروت لوگ تھے الیکشن کا اعلان کردیا، کراچی میں میو برادری کا اتنا پرجوش الیکشن پہلا اور آخری تھا، کورنگی، نیو کراچی، منظور کالونی میں پولنگ اسٹیشن قائم ہوئے صدر کی پوسٹ کا مجھے یاد ہے حاجی مستقیم میو کورنگی اور اظہار الحسن میو نیو کراچی کا مقابلہ تھا، زبردست مقابلہ ہوا اور حاجی مستقیم میو صاحب الیکشن جیت کر صدر بن گئے، بہت مخلص صاحب حیثیت شخصیت کے مالک تھے مگر تعلیم سے بے بہرہ تھے، جنکو تنظیم کی الف ب سے بھی واقفیت نہیں تھی لیکن ووٹ کی طاقت سے صدر منتخب ہوئے، پرانی کابینہ نے اختیار اور کاغذات انکے حوالے کئے اور رخصت ہوگئے، یہ سب وصول کرنے کے بعد انکا وہ مشہور جملہ آج تک یاد ہے ” کہ یہ کیا ہے انکا میں کیا کروں مجھے کیا پتہ صدر کیا ہوتا ہے، کیا کرتا ہے” یہ کہہ کر تمام کاغذات باندھ کر رکھ دیے، انکے ایک دیرینہ دوست بھائی علاءالدین میو صاحب انکو چلاتے مگر وہ کچھ عرصہ بعد غیر فعال ہوگئی،
کچھ عرصے بعد کابینہ کی نظر برادری کی ایک اور محترم شخصیت چوہدری حبیب الرحمن میو لیاقت آباد والے جو لیبر ڈیپارٹمنٹ میں آفیسر تھے انکو صدر منتخب کرلیا، مگر وسائل کی کمی اور برادری کی عدم دلچسپی کے باعث تنظیم غیر فعال ہی رہی،
اسی دوران کابینہ کے فعال ممبران کی مشاورت سے اس دور کے ممبر عبدالغفار میو (کماہاں والے) کو صدر بنا دیا، ان تمام کوششوں میں بھائی علاءالدین کا بہت عمل دخل تھا، بھائی عبدالغفار میو بہت متحرک ثابت ہوئے اور بہت سارے لوگوں کو تنظیم سے جوڑ دیا. (اس پورے عرصے کے دوران میں پی ایچ ڈی کے سلسلے میں ترکی اور اسکے بعد سعودی عرب میں مقیم تھا مگر اطلاعات دوستوں کے زریعہ ملتی تھیں)،
اسی دوران غفار میو نے کراچی میں میو کنونشن کا انعقاد کیا جس میں مستحق خواتین کو سلائی مشین اور دیگر امداد بھی فراہم کی گئیں تھی اور انکے شرکاء میں پنجاب سے انجمن اتحاد و ترقی میوات کے صدر محمد احمد قادری صاحب اور ارشد میو ایڈوکیٹ بھی شریک تھے، اور سب سے خاص بات اس پروگرام میں اجمل میو شہید بھی پہلی مرتبہ برادری کے عوامی پروگرام میں شریک ہوئے تھے.
جاری ہے، کہانی تو اب شروع ہوئی ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About Director
Mumtaz Shafique Mayo

Our chief organizer responsible for mobilizing the community through impactful nationwide conventions.

Follow us on
Facebook
Pinterest
WhatsApp
LinkedIn
Twitter

Mumtaz Shafique Mayo

Chief Organizer (Conventions)

×