
بھولے بسرے لوگ۔اور پاکستان میو اتحاد کی خدمات
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
جب کوئی قوم اڑان بھرنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
اور بہت سے لوگوں کو بہت سے کام انفرادی و اجتماعی کرنے پڑتے ہیں۔
یہی عمل زندگی کے تمام شعبہ جات میں جاری رہتا ہے۔
میو قوم میں انفرادیت کا عنصر نمایاں خوبی کے طورپےموجود ہے۔
بہت ساری صفات ہیں۔بہت ساری کاوشیں ہیں ۔یہ میو قوم کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر قوم میں ملتی جلتی عادات و اطوار پائی جاتی ہیں۔
میو قوم نے پاک و ہند کی تقسیم میں سب سے زیادہ زخم کھائے۔سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
یہاں آکے بھی وہی کام کرنے پڑے جو میو قوم کے مزاج کے خلاف تھے۔
یہ لوگ دوسروں کی ماتحتی سے نفرت کرتے تھے،یہی وجہ ہے کہ صدیوں تک انہیں کچلا گیا۔
جب تقسیم کے بعد پاکستان آئے تو انہیں اسی تنگ دروازے سے گذارا گیا ۔جس سے یہ نفرت کرتے تھے۔
انہیں اپنے حقوق ۔اپنی شناخت۔اپنا وجود تسلیم کرانے کے لئے کئی نسلیں لگ گئیں۔
ان کے مالی و جائیدادی حقوق اس طرح پائمال کئے گئے کہ زمین جائیدادوں کے حصول کے لئے جمع پونجی کے ساتھ ایک دو نسلیں بھی قربان کرنی پڑیں۔
قدرت نے غیرت میں ایک لچک دی ہے جب بھی اسے دبایا جائے موقع ملنے پر شدت سے ابھرتی ہے۔
میو قوم کو ایک منظم مشورہ کے تحت بکھیرا گیا۔
اس مخلص قوم کو تعلیم۔کاروبار۔روزگار۔ہر طرح سے پسماندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔
یہ سب دائو پیج جدید انداز میں کھیلے جاتے تھے،میو اپنی انا کو ہی بقا سمجھتا رہا۔
جدید دائو پیج کو سمجھنے میں اسے دونسلیں لگیں۔

متتاز شفیق میو۔جنرل سیکرٹری پاکستان میو اتحاد۔ڈیرہ کھارا کھوہ ۔بھسین یونٹ کے قیام کے موقع پر
میو تعلیم و تعلم سے دور تھے۔انہیں تعلیم پر مائل ہونا پڑا۔
میو قوم نوکری کو واچھا نہیں سمجھتی تھی۔انہیں نوکریاں کرنی پڑیں۔
میو قوم کاروبار کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔انہیں کاروبار کرنا پڑے۔
ایسی بہت سی باتیں ہیں جنہیں میو قوم کو سمجھنے میں دشواری ہوئی۔
یہی حال سیاست اور اجتماعیت کا تھا۔
میو قوم کے کچھ لوگوں نے اپنی بساط کے مطابق میو قوم کی خدمات کے شعبہ جات کا انتخاب کیا۔
کسی نے مقامی طورپر چند لوگوں کو جمع کیا اور مل بیٹھے۔
کسی نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے۔
کسی سیاسی جماعت سے وابسطگی اختیار کرلی
کسی نے بہتر تعلیم پاکر نوکری اختیار کرلی۔
یعنی جب میو قوم کے لوگ دوسری قوموں سے میل میلاپ کرنے لگے تو انہیں رائج الوقت ضروریات کا ادراک ہوا۔

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی شادی ک موقع پر لی گئی تصویر جس میں قاری

محمد اکرم چھوٹے بھائی بھی موجود ہیں
جولوگ وقتی ضروریات اور مستقبل بینی کی سوجھ بوجھ پیدا کرچکے تھے ،
جب انہوں نے اپنے تجربات۔مشاہداے اور وقت حاضر کے تقاضے اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کا سامان کرنا۔
یعنی ساٹھ ستر کی دیہائی میں یہ عمل جاری تھا۔۔لیکن مربوط نہ ہونے اور لکھائی پڑھائی۔
ریکارڈ نہ رکھنے کی وجہ سے یہ جدو جہد اور اس کے نتائج و ثمرات کے خلاصہ جدید نسل کو منتقل نہ ہوسکا۔
یوں ایک نسل اپنی جفاکشی کو اپنی اخلاص کی چادر میں لپیٹے ہوئے ابدی نیند جاسوئے ۔
یوں ہمیں ان کی تاریخ تو معلوم نہیں ۔البتہ ان کے کارناموں کی قدر کرتے ہوئے انہیں دعا ئوں میں ضرور یاد رکھ سکتے ہیں۔
ستر سے اسی کی دیہائی میں میو قوم نے اپنے بچوں کو سکول و کالجز میں داخلہ دلوانا شروع کردئے۔
یوں ایک معقول تعداد نوکریوں پر بھرتی ہوئی اور سرکار کا حصہ بنی۔
کچھ لوگوں کو زمین جائیدادیں مل گئی تھی۔وہ بھی آسودہ ہوگئے تھے۔
کچھ نوکریوں میں چلے گئے،کچھ آفیسر بنے آرمی تک میں اعلی عہدوں تک پہنچے۔
کچھ نے معاشرتی طورپر کچھ مقام بنایا اور اپنی زندگی میں مگن ہوگئے۔
عام میو ایسا ہی رہا۔اس کا ہاتھ نہ تو سرکار نے تھاما۔نہ اپنوں نے تھاما۔
جب ہجرت کی دھول مٹی ذہنوں سے کچھ صاف ہوئی تو۔
میو قوم کے لوگوں میں(یاد رہے میو قوم میں نہیں ۔بلکہ میو قوم کے کچھ لوگوں میں)تفریق پیدا ہوئی۔
آفسروں نے اپنے نام کے ساتھ میو لکھنا کم ہی گوارا کیا۔
کچھ لوگوں نے اپنے نام کے ساتھ ناط گوت لکھے لیکن میو لکھنے سے گریزاں رہے۔
میو قوم کے لوگوں میں آسودگی کی ہوا چلنے لگی تھی۔
اور ان کا میو بھی بیدار تھا انہوں نے اپنے اپنے انداز میں کام کرنا شروع کردیا۔
چھوٹی بڑی تنظیمیں بنیں۔کچھ نے راہ میں دم توڑا۔ان کا نام کچھ ذہنو ں دھندلاہٹ کے ساتھ موجود ہے۔
لیکن کوئی لکھی ہوئی تایخ نہیں ہے۔یوں اپنے وجود کے ساتھ اپنی تاریخ کو بھی لیکر عدم کے پردوں میں مسطور ہوگئیں۔
کچھ تنظیمیں بہت پہلے سے قائم ہیں لیکن ان سے جو امیدیں وابسطہ تھیں پوری نہ ہوسکیں۔
وہ ایک مجسمہ کے طورپر قائم ہیں ،ان میںروح موجود نہیں ہے۔
شاید اس کی وجہ ہے یہ کہ پرانے بابے جدید تقاضوں کوسمجھنا نہیں چاہتے ہیں ان کی سمجھ میں انہیں آتا کہ جدید دور کے تقاضے میو قوم کی انا اور نفسیات سے مختلف ہیں ۔اب زندگی کے اصول بدل چکے ہیں۔
اب گائوں بستیاں ۔ڈھاریاں ۔اور گوٹ۔ڈیرہ داریاں ۔اپنی اہمیت کھوچکی ہیں ۔
سچی بات تو یہ کہ جدید سوشل میڈیا۔نے ہر طرف طوفان برپا کردیا ہے۔
یہ تہذبوں کو نگلتا جارہا ہے۔تجارت کاروبار۔ہنر و سکلز سب کو ملیا میٹ کرتا جارہا ہے۔ایسے میں تمہاری انا۔
ٹانگ اڑانا۔ضدو انا کا مسئلہ یہ فرسودہ ہوچکے ہیں۔
اسی انا کی وجہ سے نئی پود (نسل)تمہارے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔
تم اسی غم میں مجموعہ امراض بن چکے ہو کہ ہماری نئی نسل ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
مرنا تو سب کو ہی اگر ارادہ ہے کہ نئی نسل تمہیں عزت و وقار دے تو ان کی بات بھی سننی پڑے گی۔
جتنا سمیٹتا ہوں بات اتنی ہی بکھرتی جارہی ہے۔
اب اے آئی (Artificial Intelligence)کا دور ہے۔یہ ٹیکنالوجی اتنی سرعت کے ساتھ اپنی زندگیوں میں نفوذ کررہی ہے کہ ہماری بیڈرومز، اور واش روموں تک اس کی رسائی ہوچکی ہے۔
جب کہ ذہنی طورپر کوئی بھی اس کے لئے آمادہ نہیں تھا۔
میو قوم کی کچھ جماعتیں ایسی ہیں جن کا نام نمایاں طورپر لیا جاسکتا ہے۔
(“اس پر بحث تو ہم اپنی کتاب(میو قوم کے پاکستان میں اسی سال)میں تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔
یہ کتاب عنقریب ۔سعد طبیہ کالج۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی طرف سے جلد شائع ہوری ہے۔لائن میں ۔جلد آمد متوقع ہے۔”)
اس وقت کئی تنظیمیں ایسی ہیں جنہوں نے اپنی تاریخی اوراق کو مرتب تاریخ میں تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے
ان میںپاکستان میو اتحاد بھی ہے
انہوں نے اپنا جمع شدہ محفوظ ریکارڈ اپنی ویب سائٹ کی زینت بنانے کی طرف توجہ دی ہے۔
پاکستان میو اتحاد کے کارکنوں اور رہنمائوں کی سوانح عمریاں ،ان کی جدوجہد۔
ان کی میو قوم کے لئے قربانیاں۔سب کو کتابی شکل میں جمع کرنے کا تہیہ کیا ہے۔
۔ویب سائٹ کا نام(mayoittehad.com)ہے۔
اس پر جب میں پرانا ڈیٹا اپ لوڈ کررہا تھا تو ممتاز شفیق کوراڈینیٹر پاکستان میو اتحاد نے چند ایک تصویریں شئیر کیں۔
میں نے جب ان تصویروں کو اے آئی(Artificial Intelligence)کی مدد سے صاف کیں تو ایک جھٹکا سا لگا۔
ایسا محسوس ہوا کہ میں آج سے بیس تیس سال پہلی والی زندگی کو دیکھ رہا ہوں۔
اس تصویر میں میرے تین بھائی ۔چچا تایا۔ان کی اولادیں ۔موجود تھیں جو آج اس دنیا میں موجود نہیں۔
کچھ کی شکلیں بھی بھولی بسری ہوچکی تھیں۔گویا وہ میری جوانی کے ایام تھے۔سامنے آئے۔
جب یہ تصویر میں نے اپنی بھائیوں سے۔اور دیگر لوگوں سے شئیر کیں
تو انہیں نو مجھے میری زندگی کی اہم تصاویر مجھے بھیجیں۔
مجھے اندازہ نہیں تھا جو باتیں میں خود بھول چکاہوں ۔
وہ ان لوگوں نے محفوظ کی ہوئی ہیں۔ان میں میری شادی کی تصویر بھی تھی۔یہ دونوں تصاویر آج تھنبیل ہیں۔




