
واہ رے اجمل بھائی
پہلے نام اللہ کو پیچھے چنتا اور کرو
پڑھو درود نبیؐ پیارا پر جا کے لیے جہان پیدا کرو
واہ رے اجمل بھائی تینے ای کیسی جوت جگائی
چھپن برس بعد جو سوتی ہوئی قوم جگائی
گمنام ہی جو جادن سُو وا کی پہچان کرائی
پاکستان میو اتحاد کی ملک میں جب پڑی دُہائی

واہ رے اجمل بھائی تینے کیسی جوت جگائی
بوڑھا، جوان اور بچہ سب ہویا میو اتحاد کا شیدائی
تیری دن رات کی جبری محنت اب رنگ لائی
پیت پریت کی ریت تینے جب میوون کو سمجھائی
تیری شہرت کا سورج کو رب نے خوب دی روشنائی
واہ رے اجمل بھائی تینے ای کیسی جوت جگائی
ساگر کی پریم نگری سُو جب پنجاب کی لَو لگائی
ٹم ٹماتا تارا، ڈگمگاتا پاؤں کی دھیر بندھائی
—2**
جا کی لاٹھی وا کی پاٹی چار سال میں ایسی سمجھائی
گھوڑا کوا ایک چابک کافی، مورکھ کو کچھ نہ بھائی
واہ! اجمل بھائی تینے ای کیسی جوت جگائی
دھن اور دولت قوم کی خاطر ڈھیر کرو
جان کی بازی لگا کر تینے قوم کو روشن نام کرو
تڑپ لگا دی گھر گھر میں، تینے کری ایسی سچائی
سچا مخلص رہبر تینے قوم کی خاطر جان کی بازی لگائی
آہ رے اجمل بھائی تینے ای کیسی جوت جگائی
تینے تن، من، دھن قوم پہ قربان کرا قائد ایسو ہویو سودائی
آس اُمید کا ایسا بند باندھا جن سو قوم کی ہوئے بھلائی
آیو ہو چلو گو، سب گُر دیا بتائے
بھلا بُرا اے سب جانے ہاں مورکھ کوئی بی نائے
من کی من میں رہ گئی اجمل تینے ایسی سُرت لگائی
ہمری نیا کے کھویا، نیا، بیچ منجدھار چھوڑ جامِ شہادت پائی
آہ! رے اجمل بھائی تینے ای کیسی جوت جگائی
**(تحریر): حاجی سبحان خاں میو ھیئر بیدیاں روڈ لاھور ۔ والد ممتاز شفیق میو *




